Siraj-ul-Haque Memon

Home » Urdu News » سندھ کے ادیب اور دانشور سراج الحق میمن انتقال کرگئے

سندھ کے ادیب اور دانشور سراج الحق میمن انتقال کرگئے

Advertisements

کراچی :سراج الحق میمن چند روز سے نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے جہا ں وہ دو فروری کی صبح 79 برس کی عمر میں وفات پاگئے ۔

سراج میمن سندھی ادب میں اپنی علمی وسعت، تجربے اور مستحکم نظریات کی بناء پر اعلیٰ مرتبے کے حامل تھے۔ ان کی متعدد تصانیف شایع ہوکر مقبول عام ہوئیں، خصوصاً میمنوں کی تاریخ پر ان کی تحقیقی کتاب کو منفرد مقام حاصل ہوا، جس میں انہوں نے ریسرچ سے ثابت کیا تھا کہ میمن قوم درحقیقت سندھی ہیں۔

وہ آج کل کراچی کے نامورانکم ٹیکس وکلاء میں شمار کیے جاتے تھے۔ مرحوم سراج الحق میمن کا صحافت سے بھی گہرا تعلق رہا، وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں کراچی سے شایع ہونے والے سندھی اخبار کے ایڈیٹر بھی رہے، سندھی زبان میں کالم نویسی کے آغاز کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے۔ سندھی ادیبوں اور بھٹو کے درمیان باہمی روابط میں سراج میمن نے نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔

حیدرآباد کے قریب واقع ٹنڈو جام شہر کے ایک ادبی اور علمی گھرانے کے فرد محمد یعقوب کے گھرمیں سال 1933ء کے دوران سراج میمن کی ولادت ہوئی۔ سراج میمن  کے والد محمد یعقوب درس و تدیس کے شعبے سے وابستہ تھے، ساتھ ساتھ شعر و ادب کے ساتھ بھی رشتہ قائم تھا، یہی روایت سراج میمن کو بھی ورثے میں ملی۔ دیوانِ حافظ کا سندھی زبان میں ترجمہ محمد یعقوب کا یادگار کارنامہ ہے۔

سراج میمن نے ابتداء میں سندھ کے نامور ناول نویس اور صحافی محمد عثمان ڈیپلائی کے ساتھ بطور مترجم کام کیا۔ سندھی ادبی بورڈ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے عہدے پر ان کی تعیناتی 1952ء کے دوران ہوئی۔ پاکستان پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1960ء میں انہوں نے محکمہ انکم ٹیکس میں شمولیت اختیار کی۔

آکسفور یونیورسٹی پریس نے 2010ء کے دوران سندھی لغت مرتب کی، جس کی ادارت کے فرائض سراج الحق میمن نے انجام دیے۔

سندھی لسانیات پر انہوں نے اپنی  تحقیقی کتاب میں اس روایت کو سختی سے رد کیا کہ سندھی سنسکرت سے نکلی ہے، انہوں نے ثابت کیا کہ سندھی اسی خطے کی خالص زبان ہے اور اس کا ارتقاء موئن جو درڑو کی تہذیب سے ہوتا چلا آرہا ہے۔

مرحوم سراج میمن نے پانچ ناول تحریر کیے جن میں سے تین نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ ان کے ایک ناول میں سترہویں صدی عیسوی کے دوران ترخان اور ارغون اقوام کے سندھ پر حملوں کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ سندھی زبان میں تحریر کیے گئے ان کے کئی ناولوں کا گجراتی زبان میں ترجمہ بھی کیا گیا۔

جی ایم سید، رسول بخش پلیجو وغیرہ کی طرح ان کا شمار سندھ کی قدآور شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نبی بخش پلیجو، شیخ ایاز، ڈاکٹر غلام علی الانہ، ابراہیم جویو، غلام ربانی آگرو کے ساتھ کام کیا اور امر جلیل، حمید سندھی، شمشیر الحیدری، قمر شہباز، نسیم کھرال، جمال ابڑو، تاج جویو، خاکی جویو، انور پیرزادو اور ان جیسے بہت سے دیگر ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے ہمراہ سندھی زبان کے تحفظ اور سندھ کے حقوق کے لیے ضیاءالحق کے مارشل لاء کے دوران  طویل جدوجہد کی۔

نصیر مرزا، بھرو مل بیدار، ڈاکٹر آکاش انصاری، جامی چانڈیو، تاج جویو، منظور سموں اور دیگر شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں نے ڈان ڈاٹ کام کے نمائندے حنیف سموں سے بات کرتے ہوئے سراج میمن کے انتقال کو سندھ، سندھی ادب اور سندھی زبان کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن جو مرحوم سراج میمن کے بھتیجے ہیں، کے مطابق مرحوم کی تدفین تین فروری کو ان کے چھوٹے صاحبزادے کی بیرون ملک سے آمد کے بعد کی جائے گی۔

سراج میمن نے اپنے لواحقین سمیت ہزاروں قارئین کو سوگوار چھوڑا ہے۔

 http://urdu.dawn.com/2013/02/02/siraj-memon-dies

Advertisements

Post your message

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: